
علّامہ، ڈاکٹر آف ہومیوپیتھی، محقّق، مدرّس، خطیب
تعلیم، طب، دعوت تبلیغ اور سماجی خدمات کے لیے وقف حیات
الحمدللہ ماشاء اللہ ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی 1972 میں کراچی کے ایک علمی و دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
والد ڈاکٹر خورشید احمد شیخ ایک طرف اسلامیات اور معاشیات میں ماسٹرز تھے، تو دوسری طرف براہ راست علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی پیر جھنڈا کے شاگرد تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے علاقے سونی پت سے ایم ڈی ہومیوپیتھی اور ایم ایس سی کی تعلیم حاصل کی تھی۔
بچپن میں دینی تعلیم وتربیت والدین سے ورثہ میں ملی۔ نورانی قاعدہ اور ناظرہ قرآن پڑھنے کا آغاز شیخ القرآن والحدیث مولانا محمود احمد حسن رحمہ اللہ کے پاس کیا اور بالاخر ان ہی سے صحیح البخاری بھی پڑھی۔
1987 میں جب علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ کی شہادت ہوئی، تو انہوں نے دینی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور ہند وپاک کے عظیم وقدیم مدرسہ جامعہ دارالحدیث رحمانیہ میں داخلہ لیا۔
جامعہ رحمانیہ میں شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن چیمہ، شیخ الحدیث مولانا محمد افضال اثری، مولانا ابراہیم عبداللہ یوگوی اور مولانا عبدالمجید صاحبان سے علم حاصل کیا۔ پھر 1989 میں جامعہ ابی بکر اسلامیہ میں داخلہ لیا جہاں پروفیسر محمد ظفر اللہ مرحوم مدیر تھے۔
جامعہ ابی بکر میں جن اساتذہ کرام سے فیض حاصل کیا ان میں شیخ الحدیث مولانا حافظ مسعود عالم، مولانا عمر فاروق سعیدی، شیخ خلیل الرحمن لکھوی، شیخ ابو عبدالمجید محمد حسین بلتستانی، شیخ ابو خالد ابراہیم عبدالملک المدنی، شیخ موسی سوڈانی، شیخ ایمن مصری، شیخ جواد عبدالجواد، پروفیسر شیخ محمد یحییٰ عزیز اور شیخ فاروق قصوری شامل ہیں۔
جن دیگر علماء کرام سے اکتساب فیض کیا ان میں مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا مفتی عبیداللہ عفیف، شیخ الحدیث علامہ عبداللہ ناصر رحمانی، شیخ الحدیث مولانا عبدالغفار روپڑی، مولانا عبدالرحمن سلفی، مولانا محمد سلفی عبدالسّتار دہلوی، پروفیسر محمد یامین محمدی، مولانا سید قاسم شاہ راشدی، مولانا محمد صادق خلیل، مولانا عبدالجلیل بھاولنگری، مولانا انور بدخشانی، مولانا قاری بشیر احمد، مولانا عبداللہ نور اور مولانا فاروق احمد عثمانی شامل ہیں۔
بطور معالج (پریکٹیشنر) اپنے طبی کیریئر کا آغاز کیا اور 32 سال سے زائد کا تجربہ حاصل کیا۔
بطور استاد اور انسٹرکٹر تعلیمی شعبے میں شمولیت اختیار کی اور 27 سال سے زائد سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
1998 سے عربک گرلز کالج فار اسلامک اسٹڈیز (كلية البنات، العربية للدراسات الإسلامية) کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ یہ کلیہ پروفیسر محمد یحییٰ عزیز رحمہ اللہ نے 1995 میں قائم کیا تھا۔
مندرجہ ذیل اداروں میں تدریسی ذمہ داریاں ادا کیں:
ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی کی زیر نگرانی کراچی اور اندرون سندھ میں 20 مساجد اور 18 مدارس تعلیمی، تبلیغی، دعوتی اور رفاہی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
قومی اخبارات اور دینی جرائد میں باقاعدہ کالم شائع ہوتے رہتے ہیں۔
نیشنل میڈیا اور سوشل میڈیا کی معروف شخصیت۔ قومی ٹیلی وژن اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر بطور اسلامی اسکالر باقاعدگی سے شرکت۔
حق ٹی وی اور وقت نیوز کے پروگرامز کے میزبان رہ چکے ہیں۔
ماہنامہ صوت Islam کراچی (تحقیقی مجلہ) کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔
باقاعدہ خطبات جمعہ دیتے رہے
تین سال کا وقفہ
الحمدللہ ماشاء اللہ مستقل خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
بانی اور اولین خطیب
تعلیم وتبلیغ کے میدان میں ڈاکٹر صاحب کا شاگردوں کا سلسلہ بہت وسیع ہے۔
طلباء میں وہ دوست و احباب شامل ہیں جو فرینڈز آف قرآن سوسائٹی کے تحت مختلف ادوار میں ترجمہ وتفسیر و حدیث کے کورسز کرتے رہے ہیں۔
طالبات کا سلسلہ ماشاء اللہ بہت دراز ہے۔ جن میں سے 50 سے زائد عالمات معلمات کی حیثیت سے مختلف شہروں میں تدریس، تبلیغ، دعوت وتربیت کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
[نمبر یہاں شامل کریں]
[ای میل یہاں شامل کریں]
[پتہ یہاں شامل کریں]
سماجی خدمات
اسکائے وے فاؤنڈیشن کے صدر کی حیثیت سے
سیلاب ریلیف
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں راشن ڈرائیو اور امدادی کام
مکانات کی تعمیر
محتاج اور متاثرہ افراد کے لیے مکانات کی تعمیر
مسجد کی تعمیرات
نئی مساجد کی تعمیر اور موجودہ مسجدوں کی مرمت
سمال بزنس لون
خود روزگاری کے لیے چھوٹے کاروبار کے قرضے
فری میڈیکل کیمپس
علاج معالجہ کے لیے مفت طبی کیمپس کا اہتمام
سولر واٹر پراجیکٹس
صاف پانی کی فراہمی کے سولر پراجیکٹس
ہینڈ پمپس
غریب علاقوں میں ہینڈ پمپس کی تنصیب
غریب بچیوں کی شادیاں
غریب اور یتیم لڑکیوں کی شادیوں کا اہتمام
رکشا اور موٹر سائیکل
بے روزگار افراد کو رکشا اور موٹر سائیکل کی فراہمی